ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / فلن کے روسی روابط، رپبلکنز بھی تحقیقات کے حامی

فلن کے روسی روابط، رپبلکنز بھی تحقیقات کے حامی

Thu, 16 Feb 2017 12:36:47    S.O. News Service

نیویارک،15؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)امریکہ کی حکمران جماعت رپبلکن پارٹی کے نمایاں ارکان نے بھی قومی سلامتی کے لیے صدر ٹرمپ کے سابق مشیر مائیکل فلن کے روسی حکام سے رابطوں کی وسیع تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔مائیکل فلن نے پیر کو اس دعویٰ کے بعد اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا کہ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری اور اپنی تعیناتی سے قبل امریکی پابندیوں کے بارے میں روسی سفیر سے بات چیت کی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنرل فلن کی روسی سفیر کے ساتھ فون پر بات چیت کے معاملے کا کئی ہفتوں سے علم تھا۔لیکن اس معاملے میں آزادانہ تحقیقات کے مطالبے پر بعض سینیئر رپبلکن رہنما تنقید کر رہے تھے۔یہ معاملات اس وقت طول پکڑنے لگے جب نیویارک ٹائمز نے یہ خبر شائع کی کہ فون ریکارڈ اور انٹرسیپٹ کی جانے والی فون کالز سے پتہ چلا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ٹیم کے بعض ارکان اور صدر کے دوسرے ساتھیوں نے انتخاب سے ایک سال قبل روسی انٹیلیجنس کے سینیئر اہلکاروں سے بار بار رابطے کیے تھے۔

جنرل فلن کا قومی سلامتی کے مشیر بنائے جانے سے قبل ایک عام شہری کے طور پر امریکی سفارتکاری کرنا غیر قانونی ہو سکتا تھا۔پہلے پہل ریٹائرڈ فوجی لفٹینینٹ جنرل فلن نے روسی سفیر سرگیئی کسلیاک کے ساتھ پابندیوں کے متعلق بات چیت سے انکار کیا اور نائب صدر مائک پینس نے تو ان کی جانب سے عوامی طور پر ان الزامات کو مسترد بھی کیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان شان سپائسر نے کہا کہ نگراں اٹارنی جنرل سیلی یئیٹس نے 26 جنوری کو وائٹ ہاؤس کو متنبہ کیا تھا کہ مائیکل فلن روسی بلیک میل کا شکار ہو سکتے ہیں۔شان سپائسر کے مطابق صدر ٹرمپ نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ فلن کے عمل سے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔مسٹر سپائسر نے بتایا کہ اس کے بعد وائٹ ہاؤس کے قانونی مشیروں نے مسٹر فلن سے کئی موقعے پر پوچھ گچھ کی اور اس کی وسیع پیمانے پر جانچ کی اور وہ انھی نتائج پر پہنچے جس جو مسٹر ٹرمپ کا موقف تھا۔


Share: